طالب علم کے لیے قواعدِ تجوید

قواعدِ تجوید

خلاصۃ التجوید کی ترتیب پر مبنی مکمل کتاب — مخارج، صفات، نون و میم ساکنہ، احکامِ مد، قلقلہ، تفخیم و ترقیق اور قواعدِ وقف۔ ہر سبق میں عربی مثالیں، قواعد اور سادہ وضاحت شامل ہے۔

سبق 1 / 10

تجوید کی تعریف، فضیلت اور فرضیت

تجوید کا لفظی معنیٰ ہے 'اچھا بنانا' اور اصطلاح میں قرآنِ کریم کے حروف کو ان کے مخارج و صفات کے ساتھ حقِ اداء کے ساتھ ادا کرنا۔ یہ علم قرآن کی صحیح تلاوت کی بنیاد ہے۔

ترتیل کا حکم

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا‘‘۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ ترتیل سے مراد ہے: حروف کو ان کے مخارج و صفات سے ادا کرنا اور جائے وقوف کو پہچاننا۔

وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا

المزمل: ۴

تجوید کی فرضیت

مخارج و صفاتِ لازمہ کا جاننا ہر قاری پر فرضِ عین ہے۔ امام جزریؒ فرماتے ہیں: تجوید اختیار کرنا لازم ہے، جو تجوید کے بغیر قرآن پڑھے وہ گناہ گار ہے۔

وَالْأَخْذُ بِالتَّجْوِيدِ حَتْمٌ لَازِمْ ۝ مَنْ لَمْ يُجَوِّدِ الْقُرْآنَ آثِمْ

مقدمہ جزریہ

لحنِ جلی اور لحنِ خفی

لحنِ جلی (بڑی غلطی) وہ ہے جس میں ایک حرف دوسرے سے بدل جائے یا معنیٰ بدل جائے — یہ حرام ہے۔ لحنِ خفی (چھوٹی غلطی) وہ ہے جس میں مخارج و صفات کی ادائیگی میں خامی ہو لیکن معنیٰ نہ بدلے — یہ مکروہ ہے۔

  • لحنِ جلی کی مثال: 'الْحَقّ' میں قاف کو کاف سے، یا 'نَصْبًا' میں صاد کو سین سے بدل دینا۔
  • لحنِ خفی کی مثال: کسی حرف کی صفتِ استعلاء یا اطباق کو پورا نہ ادا کرنا۔