قواعدِ تجوید
خلاصۃ التجوید کی ترتیب پر مبنی مکمل کتاب — مخارج، صفات، نون و میم ساکنہ، احکامِ مد، قلقلہ، تفخیم و ترقیق اور قواعدِ وقف۔ ہر سبق میں عربی مثالیں، قواعد اور سادہ وضاحت شامل ہے۔
تجوید کی تعریف، فضیلت اور فرضیت
تجوید کا لفظی معنیٰ ہے 'اچھا بنانا' اور اصطلاح میں قرآنِ کریم کے حروف کو ان کے مخارج و صفات کے ساتھ حقِ اداء کے ساتھ ادا کرنا۔ یہ علم قرآن کی صحیح تلاوت کی بنیاد ہے۔
ترتیل کا حکم
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا‘‘۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ ترتیل سے مراد ہے: حروف کو ان کے مخارج و صفات سے ادا کرنا اور جائے وقوف کو پہچاننا۔
وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا
المزمل: ۴تجوید کی فرضیت
مخارج و صفاتِ لازمہ کا جاننا ہر قاری پر فرضِ عین ہے۔ امام جزریؒ فرماتے ہیں: تجوید اختیار کرنا لازم ہے، جو تجوید کے بغیر قرآن پڑھے وہ گناہ گار ہے۔
وَالْأَخْذُ بِالتَّجْوِيدِ حَتْمٌ لَازِمْ مَنْ لَمْ يُجَوِّدِ الْقُرْآنَ آثِمْ
مقدمہ جزریہلحنِ جلی اور لحنِ خفی
لحنِ جلی (بڑی غلطی) وہ ہے جس میں ایک حرف دوسرے سے بدل جائے یا معنیٰ بدل جائے — یہ حرام ہے۔ لحنِ خفی (چھوٹی غلطی) وہ ہے جس میں مخارج و صفات کی ادائیگی میں خامی ہو لیکن معنیٰ نہ بدلے — یہ مکروہ ہے۔
- لحنِ جلی کی مثال: 'الْحَقّ' میں قاف کو کاف سے، یا 'نَصْبًا' میں صاد کو سین سے بدل دینا۔
- لحنِ خفی کی مثال: کسی حرف کی صفتِ استعلاء یا اطباق کو پورا نہ ادا کرنا۔